برازیل نے سابق صدر جیر بولسونارو کی امریکہ روانگی کے معاملے پر ارجنٹائن کے ایک سفارتکار کو طلب کر لیا ہے۔ یہ اقدام دونوں جنوبی امریکی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں ممکنہ کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔
اس پیش رفت سے برازیل کے موجودہ صدر لولا ڈی سلوا اور ان کے ارجنٹائن کے ہم منصب جیویر میلی کے درمیان پہلے سے ہی نازک تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان نظریاتی اختلافات اور علاقائی سیاست پر مختلف نقطہ نظر موجود ہیں، جس کی وجہ سے ان کے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔
بولسونارو کی امریکہ روانگی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب برازیل میں ان کے خلاف مختلف تحقیقات جاری ہیں، اور موجودہ حکومت ان کے دور اقتدار کے کئی فیصلوں پر نظرثانی کر رہی ہے۔ ارجنٹائن کے سفارتکار کو طلب کرنے کا مقصد اس معاملے پر ارجنٹائن کے موقف اور ممکنہ کردار کے بارے میں وضاحت طلب کرنا ہو سکتا ہے، تاکہ برازیل کی حکومت اپنی تشویش کا اظہار کر سکے۔


