ویٹیکن نے تصدیق کی ہے کہ پوپ لیو امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے پہلے سربراہِ کلیسا بن گئے ہیں۔ انہوں نے 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل اپنے آبائی شہر شکاگو سے ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالا۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے کیونکہ کسی بھی موجودہ پوپ نے اس سے قبل امریکی انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔
ویٹیکن کے ترجمان نے بتایا کہ پوپ لیو نے ذاتی طور پر شکاگو میں اپنا ڈاک بیلٹ جمع کرایا، جہاں وہ ایک مختصر دورے پر تھے۔ ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا یہ عمل امریکی انتخابی نظام کا ایک حصہ ہے جو ووٹرز کو ذاتی طور پر پولنگ اسٹیشن جانے کے بجائے اپنا ووٹ بھیجنے کی اجازت دیتا ہے۔ پوپ لیو کا یہ اقدام عالمی سطح پر چرچ اور سیاست کے تعلقات کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔
روایتی طور پر، ویٹیکن اور پوپ سیاسی معاملات میں غیر جانبداری برقرار رکھتے ہیں، خاص طور پر کسی دوسرے ملک کے اندرونی انتخابات میں۔ تاہم، پوپ لیو کے اس فیصلے کو ان کے ذاتی حق رائے دہی کے استعمال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ وہ امریکی شہری بھی ہیں۔ ان کے اس اقدام سے عالمی کیتھولک برادری میں بھی دلچسپی پیدا ہوئی ہے اور اس کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔


