خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے ضم اضلاع پر ٹیکسوں کے نفاذ کو ‘ظلم’ قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے اس فیصلے پر فوری نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ان علاقوں کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے جو پہلے ہی کئی چیلنجز اور پسماندگی کا سامنا کر رہے ہیں۔
گورنر کنڈی نے مزید کہا کہ ضم اضلاع، جو سابقہ قبائلی علاقہ جات (فاٹا) پر مشتمل ہیں، طویل عرصے سے پسماندگی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کا شکار رہے ہیں۔ ان علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کے وقت یہ وعدے کیے گئے تھے کہ انہیں خصوصی مراعات اور ٹیکس چھوٹ دی جائے گی تاکہ ان کی معاشی حالت بہتر ہو سکے۔ موجودہ ٹیکسوں کا نفاذ ان وعدوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور مقامی آبادی پر مزید بوجھ ڈالے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے زور دیا کہ وفاق کو قبائلی اضلاع کی منفرد سماجی و اقتصادی صورتحال کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹیکسوں کا یہ بوجھ مقامی آبادی پر مزید دباؤ ڈالے گا اور ترقیاتی عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔ گورنر نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرے اور ایسا حل تلاش کرے جو ان علاقوں کے عوام کے لیے قابل قبول ہو اور ان کی ترقی میں حائل نہ ہو۔



