کینیڈا کے صوبہ کیوبیک میں واقع ایک صدی پرانی کاغذ کی مل، جو ٹیمسکیمنگ نامی قصبے کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی تھی، امریکی حکومت کی جانب سے اپنی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے نے سینکڑوں افراد کو بے روزگار کر دیا ہے اور پورے قصبے کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ٹیمسکیمنگ، جو کہ ایک چھوٹا کینیڈین قصبہ ہے، اپنی معیشت کے لیے بڑی حد تک اسی کاغذ کی مل پر انحصار کرتا تھا۔ مل کی بندش کا مطلب صرف ملازمتوں کا خاتمہ نہیں بلکہ قصبے کی دکانوں، ریستورانوں اور دیگر چھوٹے کاروباروں کے لیے بھی تباہ کن نتائج ہیں۔ مقامی حکام اور شہری اس صورتحال کو اپنے وجود کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔
قصبے کے رہائشی اور متاثرہ کارکنان اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے لیے متحد ہو گئے ہیں۔ وہ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور امریکی حکومت پر ٹیرف واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ مل دوبارہ نہ کھلی تو ٹیمسکیمنگ کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا اور یہ قصبہ ماضی کا حصہ بن کر رہ جائے گا۔ یہ صورتحال بین الاقوامی تجارتی پالیسیوں کے مقامی آبادیوں پر پڑنے والے گہرے اثرات کی ایک واضح مثال ہے۔


