سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارتی مذاکرات میں تعطل کے بعد کینیڈا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکہ کی ریاست ہونے کے ‘فوائد’ حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن اس کی ذمہ داریاں قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ٹرمپ نے یہ بیان کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی کے تناظر میں دیا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان محصولات اور تجارتی پالیسیوں پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ان کے بقول، کینیڈا ایک ایسا ملک ہے جو امریکہ کے ساتھ تجارت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہے مگر اس کے بدلے میں کوئی خاص ذمہ داری نہیں لینا چاہتا۔
دوسری جانب، کینیڈا کے وزیر اعظم نے امریکہ کے اس اقدام پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ‘ہچکچاتے ہوئے’ امریکہ کے خلاف جوابی محصولات (retaliatory tariffs) عائد کر رہے ہیں۔ کینیڈا کے وزیر اعظم نے امریکہ پر تجارتی جنگ شروع کرنے کا واضح الزام لگایا اور کہا کہ ان کا ملک اپنے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا کو اس تجارتی کشیدگی میں گھسیٹا جا رہا ہے، حالانکہ وہ اس کا آغاز نہیں کرنا چاہتا تھا۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی طور پر مضبوط تجارتی روابط رہے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں محصولات اور تجارتی معاہدوں پر اختلافات نے تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بیانات اور جوابی اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔



