میکسیکو کی ریاست سینالوا کے گورنر روبین روچا مویا نے وسیع پیمانے پر تنقید کے بعد، جس میں ان کی اپنی پارٹی کے اراکین بھی شامل تھے، ایک بار پھر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ پیش رفت ان کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے، جب انہیں امریکہ کی جانب سے ایک منشیات کارٹیل کی مدد کرنے کے الزامات کا سامنا تھا۔
امریکی حکام کی جانب سے روبین روچا مویا پر منشیات کے کارٹیل کو سہولت فراہم کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے، جس کے بعد ان پر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو گیا تھا۔ ان کی اپنی پارٹی کے اندر سے بھی شدید تنقید کا سامنا تھا، جس نے انہیں دوبارہ عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ وہ اس سے قبل بھی ایک بار عہدہ چھوڑ چکے تھے اور حال ہی میں واپس آئے تھے۔
گورنر کے اس دوبارہ استعفے نے میکسیکو کی سیاست میں بدعنوانی اور منشیات کے کارٹیلوں کے اثر و رسوخ کے گہرے مسائل کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔ سینالوا ریاست طویل عرصے سے منشیات کی اسمگلنگ اور کارٹیل سرگرمیوں کا گڑھ سمجھی جاتی ہے، اور اس واقعے نے بین الاقوامی دباؤ اور مقامی حکمرانی کے درمیان کشمکش کو بھی نمایاں کیا ہے۔



