غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک چار سالہ بچے سمیت دو فلسطینی شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حملے غزہ کے مختلف علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے کیے گئے، جس سے علاقے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ مقامی طبی ذرائع نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں چار سالہ محمد ابو خضر اور ایک پچیس سالہ نوجوان شامل ہیں۔ یہ دونوں شمالی غزہ کے بیت حانون کے علاقے میں ایک رہائشی عمارت پر ہونے والے حملے کا نشانہ بنے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد علاقے میں افراتفری پھیل گئی اور امدادی کارکنوں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوشش کی۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے حملے حماس کے عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے تھے، جو اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کرنے کے جواب میں کیے گئے۔
یہ فضائی حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب حالیہ دنوں میں غزہ سے اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے گئے تھے، جس کے جواب میں اسرائیل نے یہ کارروائی کی۔ غزہ کی پٹی طویل عرصے سے اسرائیلی ناکہ بندی کا شکار ہے اور یہاں کے باشندے آئے روز اس طرح کے حملوں اور کشیدگی کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کو کم کرنے کی اپیل کی گئی ہے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
