امریکہ نے ایران پر اپنی تازہ ترین پابندیوں کو “اقتصادی ڈی ڈے” قرار دیا ہے، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ان سے نمٹنے کا منصوبہ ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے وسیع کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور امریکہ ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کے اعلیٰ حکام نے زور دیا ہے کہ ملک نے ان پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی ملکی معیشت کو بیرونی دباؤ سے محفوظ رکھے گی اور عوام کی ضروریات کو پورا کرے گی۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی پابندیاں ایک طویل عرصے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کا باعث بنی ہوئی ہیں، اور ایران نے ہمیشہ ان پابندیوں کو غیر قانونی اور یکطرفہ قرار دیا ہے۔
تہران کا دعویٰ ہے کہ وہ ان پابندیوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے پاس ایسے متبادل راستے موجود ہیں جو اسے اقتصادی محاذ پر مضبوط رکھیں گے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران کی یہ تیاری اس کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے باوجود اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گا۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر تیل کی منڈیوں اور علاقائی استحکام پر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے، کیونکہ ایران عالمی طاقتوں سے اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔




