اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے اسپتال، پمز میں آتشزدگی کے دلخراش واقعے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس واقعے پر جہاں ہر آنکھ اشکبار ہے، وہیں سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ “جو لوگ وفاقی دارالحکومت میں واقع اسپتال کو نہیں سنبھال سکتے وہ پورا ملک کیا سنبھالیں گے؟” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ واقعہ حکومتی نااہلی، اداروں کی خستہ حالی اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کے سب سے بڑے شہر اور دارالحکومت میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ نہیں رکھا جا سکتا تو دیگر علاقوں کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور ذمہ داران کا تعین کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ صرف بیانات دینے کے بجائے عملی اقدامات کرے تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔ حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، اور ایسے واقعات اس ذمہ داری سے روگردانی کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ان کی بھرپور مدد کا مطالبہ بھی کیا۔
