جرمنی کے ایک مصروف ترین ایئرپورٹ پر ملیریا کے ایک غیر معمولی کیس میں ایک کارکن ہلاک ہو گیا ہے۔ حکام کا شبہ ہے کہ یہ مہلک بیماری ایک ایسے مچھر کے ذریعے پھیلی جو کسی طیارے پر سوار ہو کر ایئرپورٹ پہنچا تھا۔ یہ واقعہ جرمنی کے سب سے مصروف ہوائی اڈے پر پیش آیا ہے، جہاں عام طور پر ملیریا کے مقامی کیسز نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔
اس نایاب واقعے کے بعد، ایئرپورٹ کے پانچ دیگر ملازمین کو بھی ملیریا کی علامات کے باعث زیر علاج رکھا گیا ہے۔ یہ تمام افراد ایئرپورٹ کے مختلف شعبوں میں کام کرتے تھے اور ان میں بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے بعد فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔
ماہرین صحت اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ مچھر کسی ایسے ملک سے آیا تھا جہاں ملیریا عام ہے، اور اس نے ایئرپورٹ کے اندرونی ماحول میں کیسے بقا حاصل کی۔ یہ واقعہ ہوائی اڈوں پر بین الاقوامی پروازوں سے آنے والے ممکنہ صحت کے خطرات کے بارے میں تشویش کو جنم دیتا ہے اور حکام نے ایئرپورٹ پر مچھروں کے کنٹرول کے اقدامات کو مزید سخت کر دیا ہے۔


