واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئے حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امریکہ اور کینیڈا کے درمیان مشترکہ جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کر کے ‘جھیل امریکہ’ رکھا جائے گا۔ یہ غیر معمولی اقدام دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ حکم نامہ گزشتہ ہفتے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان ہونے والے تجارتی مذاکرات کی ناکامی کے فوری بعد سامنے آیا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو بہتر بنانا تھا، تاہم وہ کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جھیل کا نام تبدیل کرنے کا یہ فیصلہ تجارتی تنازعات کے بعد کینیڈا پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔
جھیل اونٹاریو، جو کہ عظیم جھیلوں میں سے ایک ہے اور امریکہ و کینیڈا کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے، کا نام تبدیل کرنے کا یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات میں ایک نئی دراڑ پیدا کر سکتا ہے۔ کینیڈا کی جانب سے اس حکم نامے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم توقع ہے کہ یہ اقدام شدید سفارتی تنازعے کو جنم دے گا اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس پر بحث چھڑ سکتی ہے۔




