سندھ میں بی ایس 15 کے 63 سب رجسٹرارز نے گریڈ 17 میں اپنی ترقی قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس نے صوبائی انتظامی حلقوں میں حیرت کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ غیر معمولی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سرکاری ملازمین عام طور پر اعلیٰ گریڈز میں ترقی کے خواہاں ہوتے ہیں۔ اس اجتماعی انکار کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہیں اور متعلقہ حکام کی جانب سے بھی کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ سب رجسٹرارز جو طویل عرصے سے بی ایس 15 میں خدمات انجام دے رہے تھے، انہیں قواعد و ضوابط کے تحت گریڈ 17 میں ترقی کے لیے اہل قرار دیا گیا تھا۔ ترقی کے عمل کے مکمل ہونے کے بعد، انہیں نئے عہدوں پر تعینات کیا جانا تھا، لیکن انہوں نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ عام طور پر، ترقی کا مطلب بہتر تنخواہ، مراعات اور زیادہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، لیکن اس معاملے میں ملازمین نے اسے قبول کرنے سے گریز کیا ہے، جو ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔
اس اجتماعی انکار کے بعد، صوبائی حکومت اور متعلقہ محکموں کو اب اس صورتحال کا جائزہ لینا پڑے گا کہ ان خالی ہونے والی گریڈ 17 کی آسامیوں کو کیسے پُر کیا جائے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا ان سب رجسٹرارز کے انکار کے پیچھے کوئی خاص وجوہات ہیں، جیسے کہ نئی پوسٹنگ کے مقامات، اضافی ذمہ داریاں یا دیگر انتظامی مسائل، جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس واقعے نے سرکاری محکموں میں ترقی کے عمل اور ملازمین کی ترجیحات پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔







