اسلام آباد: معاون وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ مداخلت کے “گہرے” اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے یہ انتباہ 28 اگست 2026 کو “سندھ طاس معاہدہ: جنوبی ایشیا کی سلامتی دوراہے پر” کے عنوان سے منعقدہ ایک سیمینار سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اپنے خطاب میں معاون وزیراعظم اسحاق ڈار نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے میں معطلی کی کوئی شق موجود نہیں ہے، جو اس کی پائیداری اور بین الاقوامی قانون کے تحت اس کی مضبوط حیثیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تاریخی معاہدے میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ مداخلت کے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی سلامتی اور استحکام پر انتہائی سنگین اور گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
معاون وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کو پانی کی تقسیم کے حوالے سے ایک مثالی بین الاقوامی معاہدہ قرار دیا جو کئی دہائیوں سے خطے میں امن و استحکام کی ضمانت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کی سالمیت کو برقرار رکھنے اور اس میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اسحاق ڈار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پانی کے وسائل پر تناؤ بڑھ رہا ہے، اور معاہدے کی اہمیت مزید اجاگر ہو گئی ہے۔







