آسٹریلیا، جو عام طور پر دنیا کے سب سے بڑے کٹل فش کے ملاپ کے ایونٹ کی میزبانی کرتا ہے، اس سال ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس سال ملاپ کے لیے پہنچنے والی کٹل فش کی تعداد میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے، جس نے ماہرین اور ماحولیاتی کارکنوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس سال صرف 1,811 کٹل فش ملاپ کے لیے جمع ہوئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 97 فیصد کی تشویشناک کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ تعداد اس سالانہ قدرتی مظہر کی تاریخ میں سب سے کم ریکارڈ کی گئی ہے، جو عام طور پر ہزاروں کی تعداد میں کٹل فش کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
کٹل فش کا یہ سالانہ ملاپ کا ایونٹ بحری حیات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور اس میں ہونے والی یہ غیر معمولی کمی ماحولیاتی تبدیلیوں، سمندری آلودگی یا دیگر نامعلوم عوامل کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔ ماہرین اس اچانک اور شدید کمی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ اس اہم سمندری نوع کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔



