اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ملک کی 28ویں آئینی ترمیم نئے سال کے آغاز سے قبل ہی متوقع ہے۔ یہ اعلان حکومتی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کر رہا ہے، جہاں آئینی اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ مشیر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت آئینی ڈھانچے میں ضروری تبدیلیاں لانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے بہتر طریقے سے نمٹا جا سکے۔
آئینی ترامیم کسی بھی جمہوری ملک کے قانونی اور سیاسی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں لانے کے لیے کی جاتی ہیں۔ یہ ترامیم عموماً موجودہ قوانین کو بہتر بنانے، نئے چیلنجز سے نمٹنے، یا عوامی مطالبات اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق آئین کو ڈھالنے کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں۔ اگرچہ 28ویں آئینی ترمیم کی تفصیلی نوعیت اور اس کے مندرجات کے بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، تاہم اس کے ملک کے آئینی اور سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ اس ترمیم کی منظوری کے لیے پارلیمانی عمل کو تیز کیا جائے گا تاکہ نئے سال سے قبل اسے حتمی شکل دی جا سکے۔ یہ پیش رفت حکومت کی جانب سے آئینی اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے، جس کا مقصد ملک میں استحکام اور ترقی کو فروغ دینا ہے۔ قانون سازوں پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ اس اہم قانون سازی کو بروقت مکمل کریں۔



