آئس لینڈ کے ووٹروں نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کے مذاکرات شروع کرنے کی حکومتی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے RUV کے مطابق، 52.8 فیصد ووٹروں نے اس تجویز کے خلاف ووٹ دیا۔ یہ فیصلہ ملک کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کی مستقبل کی سمت کے حوالے سے عوامی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
آئس لینڈ نے 2009 میں یورپی یونین کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی، لیکن 2013 میں اس وقت کی حکومت نے ماہی گیری کے حقوق اور اقتصادی بحالی جیسے اہم معاملات پر اختلافات کے باعث مذاکرات کو معطل کر دیا تھا۔ موجودہ حکومت نے ان مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی تجویز پیش کی تھی، تاہم عوام کی اکثریت نے اس خیال کو مسترد کر دیا۔
اس ووٹنگ کے نتائج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آئس لینڈ کے عوام اپنی خودمختاری، خاص طور پر ماہی گیری کے وسائل پر کنٹرول، کو یورپی یونین کی رکنیت پر ترجیح دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آئس لینڈ کی یورپی یونین سے باہر اپنی اقتصادی اور سیاسی آزادی برقرار رکھنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے، اور آئندہ کئی سالوں تک یورپی یونین میں شمولیت کا امکان معدوم ہو گیا ہے۔

