شمالی قبرص کے ساحل کے قریب ایک مسافر فیری الٹنے سے کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ترک سرکاری میڈیا نے اتوار کو اس واقعے کی اطلاع دی۔ اے ایف پی کو ایک مقامی عہدیدار نے بتایا کہ فیری “مکمل طور پر 514 میٹر گہرائی میں ڈوب گئی ہے”، جبکہ ایک اور مقامی عہدیدار نے سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
ترک ریاستی خبر رساں ایجنسی اناطولیہ کے مطابق، شمالی قبرص کے وزیر اعظم اونال اُستل نے بتایا کہ یہ بحری جہاز بندرگاہ سے روانہ ہونے کے فوراً بعد الٹ گیا تھا اور اس میں مجموعی طور پر 267 افراد سوار تھے۔ اُستل نے مزید کہا کہ اب تک 172 افراد کو بچا لیا گیا ہے اور باقی مسافروں اور عملے کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ نکوسیا میں ترکیہ کے سفیر علی مرات باسچیری نے ہلاکتوں کی تصدیق کی تاہم انہوں نے تعداد نہیں بتائی۔ انہوں نے ترک سرکاری ٹیلی ویژن نیٹ ورک ٹی آر ٹی کو بتایا کہ “259 مسافروں کی بڑی اکثریت کو بچا لیا گیا ہے”۔
فیری الٹنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ یہ واقعہ شمالی قبرص کی بندرگاہ کیرینیا سے ترکیہ کی بندرگاہ تاسوجو کے لیے روانہ ہونے کے فوراً بعد پیش آیا۔ ترک ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں فیری کو پانی میں الٹا ہوا دکھایا گیا، جس کے نارنجی ڈھانچے کے اوپر لوگ لائف جیکٹس پہنے ہوئے تھے۔ موسم دھوپ والا تھا اور امداد کے لیے کئی کشتیاں علاقے میں موجود تھیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ڈپٹی پی ایم اسحاق ڈار دونوں نے بحیرہ روم میں پیش آنے والے اس “افسوسناک” واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا، “میں اپنے پیارے بھائی صدر رجب طیب اردگان، ترک حکومت اور سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔”

