جاپان کے وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی نے حال ہی میں ٹوکیو کی جانب سے جاپان کی فوجی تیاریوں پر جاری تنازع کے حوالے سے اب تک کے سب سے سخت ریمارکس دیے ہیں۔ انہوں نے عسکریت پسندی کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے چین کے ‘بھاری ہتھیاروں کے ذخیرے’ پر شدید تنقید کی ہے۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں فوجی طاقت کے توازن اور علاقائی سلامتی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
کوئزومی نے واضح کیا کہ جاپان کی دفاعی پالیسی صرف اور صرف اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ پر مبنی ہے، اور اس کا مقصد کسی بھی جارحانہ عزائم کو پورا کرنا نہیں ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے جاپان نے ایک پرامن آئین اپنا رکھا ہے جو اس کی فوجی صلاحیتوں کو صرف دفاعی مقاصد تک محدود رکھتا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں، بڑھتے ہوئے علاقائی خطرات، خاص طور پر چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت اور شمالی کوریا کے میزائل پروگرام کے پیش نظر، جاپان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کر رہا ہے، جس پر کچھ حلقوں کی جانب سے عسکریت پسندی کے فروغ کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔
وزیر دفاع نے چین کے وسیع فوجی بجٹ اور اس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے ہتھیاروں کے ذخیرے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی فوجی توسیع خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے اور طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقی بحیرہ چین اور جنوبی بحیرہ چین میں علاقائی دعووں پر جاپان اور چین کے درمیان کشیدگی پہلے سے ہی موجود ہے۔ ٹوکیو کے ان بیانات سے خطے میں جاری سفارتی اور فوجی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔





