واشنگٹن: اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد، جس میں دو امریکی فوجی ہلاک اور ایک لاپتہ ہو گیا تھا، امریکہ نے ہفتے کے آخر میں ایرانی افواج اور ان سے منسلک گروہوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے۔ یہ مارچ کے بعد ایرانی حملے سے امریکی فوجیوں کی پہلی جنگی ہلاکتیں ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق، یہ فضائی کارروائیاں اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ہونے والے حملے کے جواب میں کی گئیں، جس کی ذمہ داری ایران نواز ملیشیاؤں پر عائد کی گئی ہے۔ اس حملے میں دو امریکی سروس ممبران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ ایک تیسرے کو لاپتہ قرار دیا گیا ہے۔ ان ہلاکتوں نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران اور اس کی حمایت یافتہ گروہوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ امریکہ اپنے اہلکاروں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ سینٹکام نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ان حملوں میں ایران سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں ہتھیاروں کے ڈپو، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور دیگر بنیادی ڈھانچے شامل ہیں۔ یہ کارروائی خطے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کے دفاع کے عزم کا حصہ ہے۔






