فلسطینی کارکن عبداللہ شتات اسرائیلی جیل سے رہائی کے فوراً بعد بے ہوش ہو گئے۔ یہ واقعہ ان کی آزادی کے لمحات میں پیش آیا، جس نے ان کے اہل خانہ اور وہاں موجود افراد کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق، عبداللہ شتات کو اسرائیلی حکام نے ایک طویل عرصے تک قید رکھنے کے بعد رہا کیا تھا۔ رہائی کے مقام پر، جیسے ہی وہ اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے آگے بڑھے، وہ اچانک زمین پر گر گئے اور بے ہوش ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی اور قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کی صحت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
اس واقعے نے فلسطینی قیدیوں کی صحت اور جیلوں میں ان کے ساتھ سلوک کے بارے میں ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ عبداللہ شتات کا یہ واقعہ ان خدشات کو مزید تقویت دیتا ہے اور عالمی برادری سے اس معاملے پر توجہ دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔


