اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے فریقین کو دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ اور پیرا وائز کمنٹس جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ یہ نوٹسز ایک شہری کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر جاری کیے گئے ہیں جس میں پی آئی اے کی نجکاری کے حکومتی فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل سنگل بینچ نے درخواست کی سماعت کی اور فریقین سے جواب طلب کیا۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ پی آئی اے ایک قومی اثاثہ ہے اور اس کی نجکاری عوامی مفاد کے خلاف ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نجکاری کے عمل کو روکنے کا حکم جاری کرے۔ عدالت نے اس اہم معاملے پر تمام متعلقہ فریقین کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا ہے تاکہ شفافیت اور قانونی تقاضوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ موجودہ حکومت کے اہم ایجنڈے میں شامل ہے اور اس پر مختلف حلقوں کی جانب سے بحث جاری ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ نجکاری سے پی آئی اے کو مالی استحکام ملے گا اور اس کی کارکردگی بہتر ہوگی، جبکہ ناقدین اسے قومی اثاثوں کی فروخت قرار دیتے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ اقدام نجکاری کے عمل میں قانونی شفافیت اور آئینی پہلوؤں کو جانچنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اب تمام فریقین کے جوابات کے بعد ہی اس کیس میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔



