اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پاکستانیوں نے 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران 68 کھرب روپے (68,000,000,000,000 روپے) مالیت کی 3.4 ارب ڈیجیٹل ادائیگیاں کیں، جو کیش لیس بینکنگ کی جانب ایک بڑے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں تیزی سے اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کی ادائیگیوں کے نظام سے متعلق تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ کے مطابق، رسمی ذرائع سے پروسیس کی جانے والی 168.8 کھرب روپے مالیت کی 3.7 ارب ریٹیل ٹرانزیکشنز میں سے 92 فیصد ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ صارفین اب نقد رقم کے بجائے ڈیجیٹل طریقوں کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے مالیاتی لین دین میں سہولت اور رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں میں یہ نمایاں اضافہ نہ صرف مالیاتی شمولیت (financial inclusion) کو فروغ دے رہا ہے بلکہ معیشت میں شفافیت اور کارکردگی کو بھی بہتر بنا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان پاکستان کو ایک جدید اور ڈیجیٹل معیشت میں تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، جس سے کاروبار اور صارفین دونوں کو فائدہ پہنچے گا اور ملک کی معیشت کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
