اسپین نے اعلان کیا ہے کہ اس کی شمالی افریقی انکلیو سیوٹا میں حالیہ دنوں میں داخل ہونے والے زیادہ تر تارکین وطن اب وہاں سے روانہ ہو چکے ہیں۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیوٹا نے گزشتہ ماہ ہزاروں تارکین وطن کی غیر معمولی آمد کا سامنا کیا تھا، جن میں سے اکثریت مراکش سے تعلق رکھتی تھی۔ اسپین کی حکومت نے اس صورتحال کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا تھا اور اس سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے تھے۔
اسپین کے وزیر داخلہ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ تقریباً 12,000 تارکین وطن میں سے، جو مئی کے وسط میں سیوٹا میں داخل ہوئے تھے، اب 10,000 سے زائد افراد کو واپس بھیج دیا گیا ہے یا وہ رضاکارانہ طور پر چلے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ باقی ماندہ افراد کی شناخت اور ان کے کیسز کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔ حکومت نے اس عمل میں مراکش کے ساتھ تعاون کو سراہا، جس نے سرحدی کنٹرول کو مضبوط بنانے میں مدد کی۔
سیوٹا اور اس کے پڑوسی انکلیو میلیا، افریقہ میں یورپی یونین کی واحد زمینی سرحدیں ہیں اور یہ اکثر افریقہ سے یورپ میں داخل ہونے کے خواہشمند تارکین وطن کے لیے ایک اہم راستہ بنتے ہیں۔ اسپین نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اور پائیدار حل تلاش کرے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت اور انسانی حقوق کا احترام یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے جبکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
