تہران: مشرق وسطیٰ کے دارالحکومتوں میں قائم امریکی سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو خطے میں “غیر متوقع کشیدگی” کے پیش نظر خبردار کیا ہے اور انہیں ہفتے کے روز خطہ چھوڑنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی فوج نے امریکہ پر خطے میں “کشیدگی بڑھانے” کا الزام عائد کیا ہے اور ممالک کو واشنگٹن کے ساتھ تعاون نہ کرنے کی تنبیہ کی ہے۔ بحرین، مصر، عراق، اسرائیل، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارتخانوں نے یہ انتباہی پیغامات آن لائن جاری کیے ہیں۔
سیکیورٹی الرٹ میں کہا گیا ہے کہ “خطے میں موجود امریکیوں کو جانے پر غور کرنا چاہیے، یا کشیدگی کی صورت میں روانگی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔” ان پیغامات میں شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پروازوں کی تفصیلات چیک کریں اور مقامی حکام کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی مشوروں پر عمل کریں۔ مزید کہا گیا ہے کہ “مشرق وسطیٰ میں موجود امریکیوں کو احتیاط اور انتہائی چوکسی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی وقتاً فوقتاً بندش، اور ممکنہ سفری رکاوٹوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔” اردن میں موجود امریکیوں کو وہاں کے امریکی فوجی اڈوں کا دورہ نہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، جو حال ہی میں حملوں کی زد میں رہے ہیں۔
دوسری جانب، ایران نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک امریکہ کی دفاعی ڈھال بنے گا، وہ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ ایک ایرانی عہدیدار نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تہران بدترین صورتحال کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ امریکی سینٹکام کے مطابق، امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث 30 تجارتی بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کیا گیا ہے۔ عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر کو “نامعلوم پروجیکٹائل” سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ کویت نے دشمن ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس دوران، حوثیوں نے بحیرہ احمر سے گزرنے والے بحری جہازوں پر فیس عائد کرنے کے منصوبوں کی تردید کی ہے۔
