اقوام متحدہ کے ایک بیان کے مطابق، امریکہ نے عالمی ادارے کو واجب الادا اپنے بھاری قرض کی مد میں 725 ملین ڈالر کی ادائیگی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے اقوام متحدہ کے لیے مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی جانب ایک قدم ہے، جس پر طویل عرصے سے تنقید کی جا رہی تھی۔
تاہم، یہ تجویز کردہ رقم امریکہ پر اقوام متحدہ کے واجب الادا کل قرض کے 20 فیصد سے بھی کم ہے۔ امریکہ اقوام متحدہ کا سب سے بڑا مالی معاون ہونے کے باوجود، اس پر عالمی ادارے کے بجٹ اور امن مشنوں کے لیے بھاری واجبات بقایا ہیں۔ اقوام متحدہ کے حکام نے بارہا رکن ممالک سے، بالخصوص امریکہ سے، اپنے واجبات کی بروقت ادائیگی کی اپیل کی ہے تاکہ عالمی ادارے کے آپریشنز متاثر نہ ہوں۔
اس جزوی ادائیگی سے اقوام متحدہ کو کچھ حد تک مالی ریلیف ملے گا، لیکن یہ امریکہ پر واجب الادا مجموعی رقم کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ پر اب بھی اربوں ڈالر کے واجبات بقایا ہیں، اور اس ادائیگی کے باوجود عالمی ادارے کو درپیش مالی چیلنجز برقرار رہیں گے۔ یہ ادائیگی امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔


