ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ لarak جزیرے پر ہونے والے حملے، جو جولائی کے آخر کے بعد سے امریکہ کی جانب سے پہلا معلوم حملہ ہے، میں دو افراد ہلاک اور دو دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق، یہ حملہ خطے میں جاری کشیدگی میں ایک نئی شدت کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموشی کے بعد کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں طویل عرصے سے تناؤ پایا جاتا ہے، اور ماضی میں بھی ایک دوسرے کے فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
لarak جزیرے پر ہونے والے اس حملے کے بعد خطے میں مزید کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات مشرق وسطیٰ میں امن و امان کی صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں اور فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

