امریکہ اور برطانیہ نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی باغیوں کے حملوں کے جواب میں ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ پابندیاں ان نیٹ ورکس کو نشانہ بناتی ہیں جو ایران کے لیے مالیاتی پابندیوں سے بچنے اور رقوم منتقل کرنے میں استعمال ہو رہے تھے۔ مغربی ممالک کا الزام ہے کہ ایران حوثی باغیوں کو مالی اور عسکری مدد فراہم کرتا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ اور برطانوی حکومت نے مشترکہ طور پر متعدد افراد اور اداروں پر پابندیاں لگائی ہیں جو ایران کے لیے مالیاتی سہولت کاری کا کام کر رہے تھے۔ ان پابندیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو محدود کرنا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی مالیاتی سرگرمیوں کو عالمی نظام سے چھپا کر انجام دیتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورکس نہ صرف ایران کو پابندیوں سے بچنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ ممکنہ طور پر حوثی باغیوں کو مالی امداد فراہم کرنے میں بھی ملوث ہو سکتے ہیں، جو بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے لیے ایک سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
یہ نئی پابندیاں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں عائد کی گئی ہیں، جہاں بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں نے عالمی تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی برادری نے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خطے میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مؤقف ہے کہ ایران کو اپنے علاقائی پراکسیز کی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی اور ان پابندیوں کو ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک اور کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے۔





