کینیڈا نے امریکہ کی جانب سے 50 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کے بعد جوابی محصولات کا اعلان کر دیا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات امریکی مصنوعات کی ایک وسیع رینج کو نشانہ بنائیں گے۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے اور عالمی تجارتی تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی کا باعث بن رہا ہے۔
امریکہ کی جانب سے کینیڈا کی مصنوعات پر بھاری ڈیوٹی عائد کرنے کے فیصلے کو کینیڈا نے غیر منصفانہ اور بین الاقوامی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ ان کے جوابی اقدامات کا مقصد ملکی صنعتوں اور ملازمتوں کا تحفظ کرنا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کینیڈا اپنے تجارتی مفادات کا دفاع کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا اور امریکہ کے ساتھ منصفانہ تجارتی تعلقات کی بحالی کا خواہاں ہے۔
وزیر اعظم ٹروڈو نے مزید کہا کہ کینیڈا کے جوابی محصولات کا ہدف امریکی مصنوعات کی ایک طویل فہرست ہوگی، جس میں زرعی مصنوعات سے لے کر صنعتی اشیاء تک شامل ہو سکتی ہیں۔ اس تجارتی جنگ سے دونوں ممالک کی معیشتوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی تجارت کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ کینیڈا نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ جلد ہی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گا تاکہ تجارتی تعلقات کو معمول پر لایا جا سکے اور خطے میں اقتصادی استحکام برقرار رہے۔



