علاقائی اتحادیوں کی جانب سے واشنگٹن کو اپنی فوجی اڈوں اور فضائی حدود کے استعمال پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد، ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں اردن کا کردار نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے تعاون نے اردن کو ایران کے ممکنہ انتقامی اقدامات کے نشانے پر لا کھڑا کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
خطے میں دیگر امریکی اتحادیوں نے، اندرونی دباؤ اور علاقائی تنازعات سے بچنے کی خواہش کے پیش نظر، امریکہ کو اپنے فوجی اڈوں اور فضائی حدود تک رسائی محدود کر دی ہے۔ اس صورتحال میں، امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی کو جاری رکھنے کے لیے اردن پر زیادہ انحصار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اردن اب امریکہ کو لاجسٹک مدد، انٹیلی جنس شیئرنگ اور ممکنہ طور پر نگرانی کی کارروائیوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے، جو پہلے دیگر ممالک سے فراہم کی جاتی تھیں۔
اردن کا یہ بڑھتا ہوا کردار اسے ایک نازک پوزیشن میں لے آیا ہے۔ ایک طرف وہ امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے، اور دوسری طرف اسے ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ ایران کی جانب سے اردن کو براہ راست یا پراکسی حملوں، سائبر حملوں یا سیاسی دباؤ کے ذریعے نشانہ بنائے جانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اردن کو اب امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات اور علاقائی استحکام کے درمیان ایک مشکل توازن قائم رکھنا ہوگا تاکہ وہ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے منفی اثرات سے بچ سکے۔






