سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران ہونے والے ایک غلط میزائل حملے کے بارے میں عوامی سطح پر وضاحت دینے میں ناکام رہی ہے، جس کے نتیجے میں معصوم بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کو جنم دیا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
اس حملے میں ایرانی شہریوں، بالخصوص بچوں کی ہلاکت کے باوجود، واشنگٹن کی جانب سے اس غلطی کو تسلیم کرنے یا اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ یہ خاموشی نہ صرف متاثرین کے خاندانوں کے لیے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے بلکہ بین الاقوامی قانون اور جنگی اخلاقیات کے اصولوں پر بھی سوالیہ نشان لگاتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات پر جوابدہی کا فقدان مستقبل میں بھی شہریوں کی ہلاکتوں کا باعث بن سکتا ہے۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کے علمبردار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے۔ یہ ضروری ہے کہ طاقتور ممالک اپنی فوجی کارروائیوں کے دوران ہونے والی غلطیوں کا اعتراف کریں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ جب تک اس معاملے پر عوامی احتساب نہیں ہوتا، متاثرین کو انصاف نہیں ملے گا اور بین الاقوامی سطح پر امریکہ کی ساکھ متاثر ہوتی رہے گی۔



