بھارت، جو ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی طاقتوں سے پیچھے ہے، اب مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہا ہے۔ حکام ملک بھر میں بڑے پیمانے پر اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے قیام کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط کیا جا سکے اور عالمی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل ہوا جا سکے۔ یہ اقدام بھارت کو ٹیکنالوجی کے عالمی نقشے پر نمایاں کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم، ان میگا پراجیکٹس کو ناقدین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دیوہیکل ڈیٹا سینٹرز توانائی اور پانی کی بے پناہ مقدار استعمال کریں گے، جس سے پہلے ہی وسائل کی قلت کا شکار علاقوں پر مزید دباؤ پڑے گا۔ خاص طور پر ساحلی شہروں میں، جہاں پانی کے ذخائر محدود ہوتے ہیں، ان سینٹرز کا قیام ماحولیاتی توازن کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے اور مقامی آبادی کے لیے پانی کی دستیابی کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
ناقدین یہ بھی دلیل دیتے ہیں کہ یہ منصوبے طویل مدتی روزگار کے مواقع فراہم نہیں کریں گے، جس سے مقامی آبادی کو کوئی خاص معاشی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ اس کے برعکس، ان کی تعمیر اور آپریشن سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ اور قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال ہو گا، جس کی قیمت بالآخر ساحلی شہروں کے مکینوں کو ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ یوں، بھارت کو ٹیکنالوجی کی ترقی اور پائیدار ترقی کے درمیان توازن قائم کرنے کے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔



