امریکی کانگریس نے منگل کے روز ایک قرارداد منظور کی ہے جو اگرچہ بڑی حد تک علامتی نوعیت کی ہے، لیکن اس نے وائٹ ہاؤس پر ایران کے ساتھ جاری تنازع کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔
یہ قرارداد صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش ہے اور یہ پہلی بار ہے کہ کانگریس نے اس طرح کا اقدام اٹھایا ہے، جو صدر ٹرمپ کی ایران سے متعلق پالیسیوں سے واضح اختلاف کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس اقدام کو کانگریس کی جانب سے صدر کے جنگی اختیارات پر اپنی نگرانی کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اگرچہ اس قرارداد کی قانونی حیثیت محدود ہو سکتی ہے، تاہم یہ انتظامیہ کو ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ کانگریس ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی میں مزید احتیاط اور پارلیمانی منظوری چاہتی ہے۔ اس اقدام سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں کو تقویت ملنے کی امید ہے۔



