روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع میں کشیدگی برقرار ہے، حالانکہ دونوں ممالک نے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا عہد کیا تھا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، کیف پر رات بھر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد زخمی ہو گئے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب عالمی برادری دونوں فریقین پر زور دے رہی ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور تنازع کا پرامن حل تلاش کریں۔
دوسری جانب، روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے 163 ڈرونز کو کامیابی سے روکا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ماسکو میں دو افراد زخمی ہوئے۔ روس کا کہنا ہے کہ یہ ڈرونز یوکرین کی جانب سے اس کے علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ روس نے ان حملوں کو یوکرین کی جانب سے اس کی سرزمین پر دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ہے۔
دونوں ممالک کی جانب سے امن مذاکرات کی بحالی کے وعدوں کے باوجود، زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں، جہاں حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے کہ آیا سفارتی کوششیں موجودہ کشیدگی کو کم کرنے میں کامیاب ہو پائیں گی یا نہیں، جبکہ عام شہری اس تنازع کی براہ راست قیمت ادا کر رہے ہیں۔
