برازیل میں صدارتی انتخابات کے دوسرے اور فیصلہ کن مرحلے سے قبل، دونوں اہم امیدوار، سابق صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا (لولا) اور موجودہ صدر جائر بولسونارو، تقریباً 30 ملین غیر فیصلہ شدہ ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ یہ ووٹرز ملک کے اگلے سربراہ مملکت کے انتخاب میں کلیدی کردار ادا کریں گے، اور ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے دونوں رہنما اپنی انتخابی مہمات کو تیز کر چکے ہیں۔
پہلے مرحلے کے انتخابات میں کسی بھی امیدوار کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں ہوئے تھے، جس کے بعد اب مقابلہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس مرحلے میں، غیر فیصلہ شدہ ووٹرز کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ وہ کسی بھی امیدوار کے پلڑے کو بھاری کر سکتی ہے۔ لولا اور بولسونارو دونوں ہی معیشت کی بحالی، سماجی بہبود کے پروگرامز، اور ماحولیاتی تحفظ جیسے اہم مسائل پر ووٹرز کو اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی انتخابی مہمات میں آخری لمحات کی ریلیاں، میڈیا انٹرویوز اور سوشل میڈیا پر بھرپور سرگرمیاں شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ 30 ملین ووٹرز، جو ابھی تک کسی بھی امیدوار کے حق میں فیصلہ نہیں کر پائے ہیں، برازیل کے سیاسی مستقبل کا تعین کریں گے۔ ملک بھر میں اس انتخابی معرکے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور توقع ہے کہ مقابلہ انتہائی کانٹے دار ہوگا۔ دونوں امیدواروں کے حامیوں اور مخالفین میں شدید تقسیم دیکھی جا رہی ہے، جس سے یہ انتخابات برازیل کی حالیہ تاریخ کے سب سے اہم انتخابات میں سے ایک بن گئے ہیں۔
