انگلینڈ کی اہم بندرگاہ ڈوور کے اطراف ہفتے کے روز نقاب پوش مظاہرین نے اہم شاہراہوں کو بند کر دیا۔ مظاہرین ‘کشتیوں کو روکو’ کے نعرے لگا رہے تھے، جو چھوٹی کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل عبور کرنے والے تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد کے خلاف ان کے احتجاج کی عکاسی کرتا ہے۔ اس احتجاج کے باعث بندرگاہ کے داخلی اور خارجی راستوں پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔
مظاہرین نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے گاڑیوں کی آمد و رفت کو روک دیا، جس کے نتیجے میں لمبی قطاریں لگ گئیں۔ نقاب پوش مظاہرین، جن کا تعلق بظاہر امیگریشن مخالف گروپوں سے تھا، حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو انگلینڈ کی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے فوری کارروائی کرنی چاہیے۔
ڈوور بندرگاہ برطانیہ کی سب سے مصروف ترین بندرگاہوں میں سے ایک ہے اور یورپی یونین کے ساتھ تجارت کے لیے ایک اہم گیٹ وے کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس طرح کے احتجاج سے نہ صرف مقامی ٹریفک بلکہ بین الاقوامی تجارت اور سپلائی چین بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ حکام نے مظاہرین کو منتشر کرنے اور راستے کھولنے کے لیے اقدامات کیے، تاہم اس احتجاج نے غیر قانونی امیگریشن کے مسئلے پر ملک میں جاری بحث کو مزید تیز کر دیا ہے اور حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ اس مسئلے کا کوئی ٹھوس حل پیش کرے۔



