حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی ہے جس میں ایک ہاتھی کو سیلابی پانی سے بچوں کو نکال کر اونچی جگہ پر موجود افراد تک پہنچاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ مناظر نیپال میں آنے والے حالیہ سیلاب کے ہیں جہاں ہاتھیوں نے انسانی جانیں بچا کر بہادری کی مثال قائم کی ہے۔ یہ ویڈیو ہزاروں کی تعداد میں شیئر کی گئی ہے اور صارفین کی جانب سے ہاتھی کی اس ‘بہادری’ کو سراہا جا رہا ہے۔
تاہم، ہماری فیکٹ چیک ٹیم نے اس وائرل ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ویڈیو نیپال کے حالیہ سیلاب سے متعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس میں دکھائے گئے واقعات کی تاریخ حالیہ ہے۔ ویڈیو کے اصل ماخذ اور اس کے پیچھے کی کہانی کو جاننے کے لیے مزید گہرائی سے چھان بین کی گئی۔
ہماری تفصیلی تحقیق کے بعد یہ بات واضح ہوئی ہے کہ یہ ویڈیو دراصل 2014 کی ہے اور اس کا تعلق نیپال سے نہیں بلکہ تھائی لینڈ سے ہے۔ اس ویڈیو میں نظر آنے والا ہاتھی ‘سامبو’ ہے جو اپنے مہاوت (ہاتھی بان) کو سیلابی ریلے سے بچا رہا تھا، نہ کہ بچوں کو۔ ویڈیو کو اس طرح سے ایڈٹ یا پیش کیا گیا ہے کہ دیکھنے والوں کو یہ تاثر ملے کہ ہاتھی بچوں کو بچا رہا ہے۔ یہ واقعہ تھائی لینڈ کے ایک جنگلی حیات کے پناہ گاہ میں پیش آیا تھا جہاں اچانک آنے والے سیلاب نے صورتحال کو خطرناک بنا دیا تھا۔
اس فیکٹ چیک سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ہر مواد پر آنکھیں بند کرکے یقین نہیں کرنا چاہیے۔ غلط معلومات اور پرانی ویڈیوز کو نئے واقعات سے جوڑ کر پیش کرنا ایک عام رجحان بن چکا ہے جس سے غلط فہمیاں پھیلتی ہیں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ کسی بھی خبر یا ویڈیو کو آگے شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کر لیں۔



