امریکا میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس سے صارفین اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں اور بڑھتی ہوئی عالمی طلب ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی معیشت پہلے ہی مہنگائی اور سست روی کے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔
اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے میں روس-یوکرین جنگ کا اہم کردار ہے۔ حالیہ دنوں میں یوکرین کی جانب سے روسی تیل ریفائنریوں پر کیے گئے حملوں نے عالمی ڈیزل سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے۔ روس دنیا کے بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، اور اس کی سپلائی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں میں عدم استحکام کا باعث بنتی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں روسی تیل کی پیداوار اور برآمدات پر دباؤ بڑھا ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی دستیابی مزید کم ہوئی ہے۔
تیل اور ڈیزل کی سپلائی میں کمی اور قیمتوں میں اضافے کے یہ اثرات صرف امریکا تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ مہنگائی میں اضافے اور صنعتی سرگرمیوں میں سست روی کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جس سے عالمی اقتصادی بحالی کی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک روس-یوکرین تنازع حل نہیں ہوتا اور سپلائی چین مستحکم نہیں ہوتی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہے گا اور صارفین کو بلند قیمتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔



