بنگلہ دیش میں خسرہ کی وبا نے ایک سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے، جہاں اس مہلک بیماری سے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد تشویشناک حد تک 1000 کے قریب پہنچ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک میں صحت کے نظام اور بچوں کی صحت کے حوالے سے گہرے خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر بین الاقوامی صحت کی تنظیموں کی جانب سے خسرہ کو ایک قابلِ علاج اور قابلِ روک تھام بیماری قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بنگلہ دیش میں اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی ہلاکتیں ویکسینیشن پروگرامز کی ناکامی یا ان تک رسائی میں مشکلات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ صورتحال خاص طور پر کمزور اور پسماندہ علاقوں میں زیادہ سنگین ہے جہاں صحت کی سہولیات پہلے ہی ناکافی ہیں۔
ماہرین صحت نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر خسرہ کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرہ بچوں کو علاج فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے۔ ویکسینیشن مہم کو تیز کرنا، عوامی آگاہی بڑھانا اور دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا اس بحران سے نمٹنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سنگین صورتحال پر قابو پانے کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔




