اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے ‘مشترکہ دفاع کے مکہ معاہدے’ کا خیرمقدم کیا ہے، جو رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور سلامتی کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ معاہدہ اسلامی دنیا میں پائیدار امن اور استحکام کے فروغ کے لیے او آئی سی کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔
او آئی سی، جو کہ 57 اسلامی ممالک پر مشتمل ہے، طویل عرصے سے مسلم امہ کے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور مختلف علاقائی و عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے۔ مکہ میں طے پانے والا یہ معاہدہ، جو مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے پر مرکوز ہے، تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان یکجہتی اور باہمی اعتماد کی ایک نئی مثال قائم کرتا ہے۔
اس معاہدے کا مقصد علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنا، رکن ممالک کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانا اور مشترکہ حکمت عملیوں کے ذریعے کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر جواب دینا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اسلامی دنیا کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور مجموعی طور پر اسلامی دنیا کی پوزیشن کو عالمی سطح پر مزید مستحکم کرے گا۔





