اٹارنی جنرل کے عہدے کے لیے ٹوڈ بلانچ کی تصدیقی سماعت قریب آتے ہی، ان کے ماضی کے ایک اہم کردار پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ بلانچ، جو اس اعلیٰ قانونی عہدے کے لیے کوشاں ہیں، کو بدنام زمانہ مجرمانہ جنسی زیادتی کے مرتکب جیفری ایپسٹین کے کیس میں ان کے ملوث ہونے کے حوالے سے سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس معاملے کی جڑیں جیفری ایپسٹین کی دیرینہ ساتھی گھسلین میکسویل کے انٹرویو میں ٹوڈ بلانچ کے کردار سے جڑی ہیں۔ میکسویل، جو بعد میں خود بھی جنسی اسمگلنگ کے الزامات میں سزا یافتہ قرار پائیں، ایپسٹین کے جرائم میں ایک کلیدی معاون سمجھی جاتی تھیں۔ بلانچ کا اس حساس معاملے میں ملوث ہونا، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب وہ ملک کے اعلیٰ ترین قانونی عہدے پر فائز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کی اہلیت اور اخلاقیات پر سوالات اٹھا رہا ہے۔
تصدیقی سماعت کے دوران، سینیٹرز اور دیگر متعلقہ فریقین یقینی طور پر بلانچ سے ان کے اس کردار کی تفصیلات، ان کے فیصلوں اور اس وقت کی صورتحال کے بارے میں سخت سوالات پوچھیں گے۔ یہ معاملہ نہ صرف بلانچ کی نامزدگی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی اس پر شدید بحث و مباحثہ متوقع ہے۔ ان کے ماضی کے اس پہلو کو نظر انداز کرنا ناممکن ہو گا اور یہ ان کے اٹارنی جنرل بننے کی راہ میں ایک فیصلہ کن عنصر ثابت ہو سکتا ہے۔



