اسلام آباد: تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 12 نومبر 2025 کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ابراہیمی معاہدوں سے متعلق مطالبات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اہم معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے۔
پریس کانفرنس کے دوران، رہنماؤں نے واضح کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کو ایران کے ساتھ مذاکرات سے جوڑ دیا ہے، جسے پاکستان کے داخلی اور خارجہ امور میں مداخلت قرار دیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے زور دیا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور اس کے خارجہ پالیسی کے فیصلے قومی مفادات کی بنیاد پر کیے جائیں گے، نہ کہ کسی بیرونی دباؤ کے تحت۔
محمود خان اچکزئی اور بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس حساس معاملے پر فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائے اور تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے تاکہ ایک متفقہ قومی موقف اپنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابراہیمی معاہدے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اور پاکستان کو اس حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرنے سے پہلے وسیع مشاورت کرنی چاہیے۔




