ہفتے کے روز ایک اہم فیصلے میں، ایک اپیل کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے میل کے ذریعے ووٹنگ پر پابندیاں عائد کرنے کے حکم کو روکنے کے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی جانب سے میل کے ذریعے ووٹنگ پر مسلسل حملوں کے لیے ایک تازہ دھچکا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے میل کے ذریعے ووٹنگ کو محدود کرنے کی کوشش کی تھی، جس کا مقصد انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کو روکنا تھا۔ تاہم، ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کوشش تھی اور اس سے جمہوری عمل متاثر ہو سکتا تھا۔ اپیل کورٹ کا یہ فیصلہ میل ووٹنگ کے حامیوں کے لیے ایک بڑی فتح سمجھا جا رہا ہے۔
اس فیصلے کے بعد، حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جا سکتی ہے۔ یہ قانونی جنگ امریکی انتخابی نظام میں میل کے ذریعے ووٹنگ کے مستقبل کے لیے اہم مضمرات رکھتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب انتخابی اصلاحات پر بحث زوروں پر ہے۔



