ایئر انڈیا کے ایک پائلٹ کے مبینہ طور پر بھنگ (کینابیس) کے ٹیسٹ میں مثبت آنے کی خبر نے ہوا بازی کی صنعت میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس واقعے نے تحقیقاتی اداروں کے لیے یہ اہم سوالات اٹھا دیے ہیں کہ اس طرح کے ٹیسٹ کے نتائج درحقیقت کتنی اور کیسی معلومات فراہم کر سکتے ہیں، اور ان کی بنیاد پر کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھنگ کے ٹیسٹ میں مثبت نتیجہ آنا فوری طور پر یہ ثابت نہیں کرتا کہ پائلٹ پرواز کے دوران یا ڈیوٹی کے وقت نشے کی حالت میں تھا۔ کینابیس کے اجزاء انسانی جسم میں کئی دنوں بلکہ بعض اوقات ہفتوں تک موجود رہ سکتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ نشہ آور مادہ کب استعمال کیا گیا تھا۔ یہ پہلو تحقیقاتی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے، کیونکہ انہیں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ آیا پائلٹ نے ڈیوٹی کے اوقات کے قریب بھنگ استعمال کی تھی۔
اس واقعے نے فضائی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایئر لائنز اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں، جیسے کہ بھارت میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA)، کو اپنی پالیسیوں اور جانچ کے طریقہ کار کا از سر نو جائزہ لینا پڑ سکتا ہے۔ پائلٹ کے خلاف ممکنہ طور پر لائسنس کی معطلی یا منسوخی جیسی کارروائی کی جا سکتی ہے، تاہم حتمی فیصلہ تحقیقات کے مکمل ہونے اور ٹیسٹ کے نتائج کی درست تشریح پر منحصر ہو گا۔ اس صورتحال میں، فضائی عملے کے لیے نشہ آور اشیاء کے استعمال سے متعلق واضح اور سخت رہنما اصولوں کی ضرورت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔





