عالمی سطح پر ایبولا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی کے پیش نظر، اس مہلک بیماری سے نمٹنے کے لیے ویکسین کی تیاری پر تحقیق کو ہنگامی بنیادوں پر تیز کر دیا گیا ہے۔ متعدد بین الاقوامی اداروں اور حکومتوں کی جانب سے اس تحقیق کے لیے خطیر فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ جلد از جلد ایک مؤثر ویکسین تیار کی جا سکے۔
اس وقت کم از کم تین مختلف ویکسینز پر تحقیق جاری ہے جنہیں مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایبولا کا پھیلاؤ جس رفتار سے ہو رہا ہے، اس کے مقابلے میں ردِعمل کی رفتار سست ہے، یہی وجہ ہے کہ ویکسین کی تیاری کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان ویکسینز کی آزمائش اور ترقی کے مراحل کو مختصر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔
اگرچہ ویکسین کی حتمی دستیابی کے بارے میں کوئی ٹھوس تاریخ نہیں دی جا سکتی، تاہم محققین اور سائنسدان دن رات کام کر رہے ہیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ابتدائی نتائج اور ممکنہ طور پر محدود استعمال کے لیے ویکسین کے کچھ ورژن آئندہ چند ماہ میں دستیاب ہو سکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر متعلقہ ادارے اس عمل کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ محفوظ اور مؤثر ویکسینز کو جلد از جلد متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جا سکے۔



