بھارت کا سب سے بڑا تعلیمی بورڈ، سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (CBSE)، حالیہ دنوں میں کئی تنازعات کی زد میں ہے، جس نے ملک بھر میں طلباء اور والدین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات نے تعلیمی نظام کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور لاکھوں طلباء کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ اس صورتحال نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف طلباء میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے اور وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
ان امتحانی بے ضابطگیوں کے نتیجے میں طلباء کو نہ صرف ذہنی دباؤ کا سامنا ہے بلکہ ان کی سالوں کی محنت بھی داؤ پر لگ گئی ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں طلباء سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس سکینڈل کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک امتحانی مسئلہ نہیں بلکہ حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کی ناکامی کا عکاس ہے۔
اس سکینڈل نے نریندر مودی حکومت پر سیاسی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بھی اس معاملے کو لے کر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں اور وزیر تعلیم کے فوری استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ واقعہ بھارت کے تعلیمی ڈھانچے میں گہری خامیوں کو اجاگر کرتا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے طویل مدتی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اور شفاف اقدامات کرے تاکہ طلباء کا تعلیمی نظام پر اعتماد بحال ہو سکے اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔



