ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے عالمی معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے صرف اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے بجائے وسیع تر اقتصادی اشاروں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، بعض اہم اقتصادی اشارے، جیسے کہ امریکی 10 سالہ ٹریژری بلز کی پیداوار، جنگ کے آغاز سے ہی نمایاں تبدیلیاں دکھا رہے ہیں جو ممکنہ طور پر مستقبل کی معاشی صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔
اس حوالے سے، امریکی 10 سالہ ٹریژری بلز کی پیداوار میں ایران جنگ کے آغاز سے اب تک 60 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ ٹریژری بلز مہنگائی کے لیے ایک اہم اشارہ سمجھے جاتے ہیں، اور ان کی پیداوار میں اضافہ عام طور پر سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے خدشات اور مستقبل میں مہنگائی کی توقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ صورتحال قرض لینے کی لاگت میں اضافے اور مجموعی معاشی غیر یقینی صورتحال کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسٹاک مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ اگرچہ توجہ کا مرکز بنتی ہے، لیکن یہ صرف ایک سطحی اشارہ ہے۔ ٹریژری بلز کی پیداوار جیسے بنیادی اشارے معیشت کی گہرائی میں موجود حقیقی تبدیلیوں اور خطرات کو زیادہ واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران جنگ جیسے جغرافیائی سیاسی واقعات کے عالمی معیشت پر دور رس اور گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اور ان کے مکمل اثرات کو سمجھنے کے لیے مختلف اقتصادی آلات کا جامع تجزیہ ناگزیر ہے۔




