صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے بڑے دعوے کر رہے ہیں، جو بظاہر ان کی اپنی ترجیحات کو حتمی معاہدوں کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہے۔ یہ حکمت عملی ایرانی فریق کو ایک طے شدہ صورتحال میں پھنسانے کی امید پر مبنی دکھائی دیتی ہے، جہاں وہ ان دعووں کی تردید کے باوجود ایک طرح کے دباؤ میں آ جائیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اپنے مطلوبہ نتائج کو پہلے ہی سے طے شدہ معاملات کے طور پر پیش کر رہے ہیں تاکہ ایرانی فریق پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ ان کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو مذاکرات کی میز پر حتمی شکل دیے بغیر ہی ایک مکمل معاہدے کے طور پر پیش کر کے ایران کو قبول کرنے پر مجبور کریں۔
تاہم، ایران کی جانب سے ان دعووں کی مسلسل تردیدیں مذاکراتی عمل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طرح کے متضاد بیانات کا سلسلہ بالآخر پورے مذاکراتی عمل کو ہی سبوتاژ کر دے گا اور کسی بھی ممکنہ پیش رفت کو روک دے گا؟ یہ صورتحال مذاکرات کے مستقبل پر گہرے سوالات اٹھا رہی ہے۔


