ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ ان کی شرائط پوری نہیں کرتا۔ اس بیان نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے اور عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
یہ اہم آبی گزرگاہ، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، کی بندش سے عالمی منڈیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایران کے اس موقف نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم تیل کی ترسیل کے راستوں میں سے ایک ہے، اور اس کی بندش عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ایران کی جانب سے عائد کردہ شرائط کی تفصیلات اگرچہ ابھی تک واضح نہیں کی گئی ہیں، تاہم یہ واضح ہے کہ تہران امریکہ سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے اس اہم آبی گزرگاہ کو ایک دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک دونوں فریقین کے درمیان کوئی سفارتی پیش رفت نہیں ہوتی، آبنائے ہرمز کی بندش کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔



