دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک، پانامہ کینال کے آپریٹر نے ایل نینو کے موسمیاتی پیٹرن کے باعث کم بارشوں کے پیش نظر کینال سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ عالمی تجارت کے لیے ایک اہم دھچکا سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ گزرگاہ بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کو ملاتی ہے اور بین الاقوامی شپنگ کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
کینال کے حکام کے مطابق، ایل نینو کے سبب ہونے والی غیر معمولی کم بارشوں نے کینال میں پانی کی سطح کو خطرناک حد تک کم کر دیا ہے۔ پانامہ کینال کا نظام لاکس (locks) پر مشتمل ہے جو جہازوں کو مختلف بلندیوں پر لے جانے کے لیے تازہ پانی کا استعمال کرتے ہیں۔ پانی کی کمی کا مطلب ہے کہ جہازوں کو کم گہرائی میں سفر کرنا پڑے گا یا ان کا وزن کم کرنا پڑے گا، جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہوگی۔ اس صورتحال کے پیش نظر، آپریٹر نے روزانہ گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پانی کے ذخائر کو محفوظ رکھا جا سکے۔
ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی پیٹرن ہے جو بحر الکاہل کے استوائی خطے میں سمندری سطح کے درجہ حرارت میں تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں موسم کے پیٹرن متاثر ہوتے ہیں، جن میں بعض علاقوں میں شدید خشک سالی اور دیگر میں سیلاب شامل ہیں۔ پانامہ کینال پر اس کے اثرات عالمی تجارت کے لیے ایک نئی تشویش کا باعث بن رہے ہیں اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کس طرح موسمیاتی تبدیلیاں اور قدرتی مظاہر اہم عالمی انفراسٹرکچر اور اقتصادی سرگرمیوں کو براہ راست متاثر کر سکتے ہیں۔ شپنگ کمپنیوں کو اب متبادل راستوں یا طویل انتظار کے لیے تیار رہنا پڑے گا۔


