ہانگ کانگ: تیانمن چوک کے کارکنان قومی سلامتی قانون کے تحت قصوروار قرار

ہانگ کانگ میں تیانمن چوک کے واقعے کی یادگار سے وابستہ تین سرگرم کارکنان کو قومی سلامتی کے قانون کے تحت ریاستی طاقت کو سبوتاژ کرنے کی ترغیب دینے کے الزام میں قصوروار قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ قانون چین نے ہانگ کانگ میں نافذ کیا تھا۔

مقامی عدالت نے ان کارکنان کو دوسروں کو ریاستی طاقت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کا مجرم پایا ہے۔ یہ فیصلہ ہانگ کانگ میں شہری آزادیوں اور سیاسی سرگرمیوں پر چین کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ قومی سلامتی کا یہ قانون 2020 میں نافذ کیا گیا تھا اور اس کے تحت کئی جمہوریت نواز کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ہانگ کانگ، جو کبھی ایشیا میں آزادی اظہار اور احتجاج کا مرکز سمجھا جاتا تھا، اب اس قانون کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس فیصلے سے بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ ہانگ کانگ کی “ایک ملک، دو نظام” کی پالیسی کو کمزور کر رہا ہے اور اس کے خود مختار حیثیت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

  • Related Posts

    عالمی تیل کی قیمتیں: معیشت کی شہ رگ اور حکومتی حکمت عملی

    تیل محض ایک سیال ایندھن نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ یہ صنعتوں کو چلاتا ہے، نقل و حمل کو ممکن بناتا ہے، اور روزمرہ کی زندگی کے…

    پاکستان اور سنگاپور کے درمیان گہرے اقتصادی و سفارتی تعلقات پر اتفاق

    وزیراعظم شہباز شریف نے 30 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن سے ملاقات کی۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کے…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔