ہانگ کانگ میں تیانمن چوک کے واقعے کی یادگار سے وابستہ تین سرگرم کارکنان کو قومی سلامتی کے قانون کے تحت ریاستی طاقت کو سبوتاژ کرنے کی ترغیب دینے کے الزام میں قصوروار قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ قانون چین نے ہانگ کانگ میں نافذ کیا تھا۔
مقامی عدالت نے ان کارکنان کو دوسروں کو ریاستی طاقت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کا مجرم پایا ہے۔ یہ فیصلہ ہانگ کانگ میں شہری آزادیوں اور سیاسی سرگرمیوں پر چین کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ قومی سلامتی کا یہ قانون 2020 میں نافذ کیا گیا تھا اور اس کے تحت کئی جمہوریت نواز کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ہانگ کانگ، جو کبھی ایشیا میں آزادی اظہار اور احتجاج کا مرکز سمجھا جاتا تھا، اب اس قانون کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس فیصلے سے بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ ہانگ کانگ کی “ایک ملک، دو نظام” کی پالیسی کو کمزور کر رہا ہے اور اس کے خود مختار حیثیت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔


